عنوان: کیا رمضان کا آغاز ہلال (چاند) سے ہوتا ہے یا حساب کتاب سے؟
تاریخ: 19 مارچ 2025
سوال:
صحیح دینی شعور کے مطابق رویتِ ہلال (چاند دیکھنے) کے مسئلے کو کیسے دیکھنا چاہیے؟ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود رمضان اور عیدین کی تاریخ طے کرنا اتنا مشکل کیوں ہے کہ ہر سال یہ تنازع پیدا ہوتا ہے؟ نیز، چاند دیکھ کر روزہ شروع کرنے اور ختم کرنے کی شرعی بنیاد کیا ہے؟
جواب:
رمضان ایک قمری مہینہ ہے، جس کا آغاز اور اختتام چاند کی گردش پر منحصر ہے۔ اسی لیے شمسی (عیسوی) کیلنڈر کے مقابلے میں یہ ہر سال دس یا گیارہ دن پہلے آتا ہے، جس کی وجہ سے روزے کبھی سردیوں میں اور کبھی گرمیوں میں آتے ہیں۔
قمری مہینہ 29 یا 30 دن کا ہوتا ہے۔ اس کا تعین چاند کے مشاہدے سے کیا جاتا ہے۔ 29 ویں دن غروبِ آفتاب کے بعد نئے چاند کی تلاش کی جاتی ہے۔ چونکہ نیا چاند سورج کے فوراً بعد غروب ہو جاتا ہے، اس لیے اس کے لیے باریک بینی سے مشاہدہ ضروری ہے۔ اگر افق پر گرد و غبار یا بادل ہوں تو مشاہدہ ناممکن ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں مہینے کے 30 دن پورے کیے جاتے ہیں، کیونکہ کوئی بھی قمری مہینہ 30 دن سے زیادہ نہیں ہوتا۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
“چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار (عید) کرو۔ اگر بادلوں کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے 30 دن پورے کرو۔” (بخاری، ترمذی)
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
“ہم ایک امی (ان پڑھ) قوم ہیں، ہم لکھنا اور حساب کرنا نہیں جانتے۔ مہینہ اس طرح، اس طرح اور اس طرح ہے (یعنی کبھی 29 اور کبھی 30 دن کا)۔” (بخاری، مسلم)
نبی کریم ﷺ کے زمانے میں فلکیاتی حساب کتاب کے ماہرین موجود نہیں تھے، اس لیے آپ ﷺ نے چاند دیکھنے کو واحد ذریعہ قرار دیا۔ لیکن چاند دیکھنا بذاتِ خود کوئی مقصودِ عبادت نہیں بلکہ مہینے کی شناخت کا ذریعہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
“سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں۔” (سورہ رحمٰن، 5)
“وہی ہے جس نے سورج کو چراغ اور چاند کو روشنی بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کر سکو۔” (سورہ یونس، 5)
ان آیات میں اللہ نے مشاہدے کے بجائے “حساب” کی طرف توجہ دلائی ہے۔ لہٰذا آج کے دور میں جب ماہرین سائنسی بنیادوں پر چاند کے طلوع و غروب کا درست حساب لگا سکتے ہیں، تو اسی پر عمل کرنا چاہیے۔ ترکی کا محکمہ مذہبی امور (دیانت) اسی قرآنی ہدایت کے مطابق حساب کتاب پر عمل کرتا ہے، جو کہ ایک درست اور سائنسی طریقہ ہے۔
حساب کتاب پر انحصار کرنا ان مسلمانوں کے لیے بھی ضروری ہے جو قطبین (Poles) کے قریب رہتے ہیں، جہاں مہینوں تک سورج طلوع یا غروب نہیں ہوتا۔ ایسی جگہوں پر چاند دیکھنا ناممکن ہے، اس لیے وہاں صرف حساب کے ذریعے ہی روزوں اور عید کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

