عنوان: کیا رمضان کے 30 دن ہونے کی کوئی دلیل موجود ہے؟
تاریخ: 20 مارچ 2026
جواب:
قمری مہینے کبھی 29 اور کبھی 30 دن کے ہوتے ہیں۔ ان مہینوں کے آغاز اور اختتام کا تعین مشاہدے (چاند دیکھنے) سے کیا جاتا ہے۔ موجودہ قمری مہینے کی 29 تاریخ کو غروبِ آفتاب کے بعد اگلے مہینے کے ہلال کی تلاش کی جاتی ہے۔ چونکہ نیا چاند سورج غروب ہونے کے کچھ دیر بعد ہی خود بھی غروب ہو جاتا ہے، اس لیے اس کے لیے بہت محتاط مشاہدے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر مغربی افق پر دھول، دھواں یا بادل ہوں، تو مشاہدہ بہت مشکل یا ناممکن ہو سکتا ہے۔ اگر چاند نظر نہ آئے، تو جاری مہینے کے 30 دن پورے کیے جاتے ہیں۔ 30 ویں دن کی شام کو دوبارہ چاند تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ سورج غروب ہوتے ہی اگلا مہینہ خود بخود شروع ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی قمری مہینہ 30 دن سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ شروع کرو اور شوال کا چاند دیکھ کر روزہ ختم کرو۔ اگر بادلوں کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے، تو شعبان کے 30 دن پورے کرو۔” (بخاری)
ایک اور حدیثِ مبارکہ اس طرح ہے:
“ہم ایک امی (ان پڑھ) قوم ہیں، ہم لکھنا اور حساب کرنا نہیں جانتے۔ مہینہ (انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے) اس طرح، اس طرح اور اس طرح ہے (راوی سلیمان نے تیسرے اشارے پر ایک انگلی بند کر لی، یعنی مہینہ 29 یا 30 دن کا ہوتا ہے)۔” (بخاری، مسلم، ابوداؤد، ابنِ ماجہ، نسائی، احمد بن حنبل)

